ابنا: مصطفی عبدالجلیل نے یہ بیانات برقہ علاقے کے علیحدگی پسند مقامی حکام کی جانب سے ایک بیان کے رد عمل میں دیۓ ہیں۔ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ لیبیا سے برقہ کی علیحدگي کے نام سے جو مطالبہ کیا گيا ہے وہ اس ملک کے صرف دس فیصد عوام کا مطالبہ ہے اور اس سے یورپ کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔رواں مہینے کے اوائل میں مشرقی لیبیا میں واقع برقہ علاقے کے سیاسی اور قبائلی عمائدین کا ایک اجلاس ہوا جس میں اس علاقے کی خود مختاری کا اعلان کیا گيا ۔ لیبیا میں اس اقدام پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا اور لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے اس مشکوک اقدام کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے لیبیا کی تقسیم کی سازش قرار دیا۔ گزشتہ کئي ہفتوں کے دوران لیبیا میں مختلف قبائل کے درمیان جھڑپیں ہوئيں۔ اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان جھڑپوں کی وجہ قبائلی تعصبات ہیں اور مختلف قبائل ایک دوسرے سے اپنا انتقام لینے کے درپے ہیں۔ لیکن ان اقدامات کو لیبیا کے حصے بخرے کرنے کی سازش کا حصہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ سنہ انیس سو اکاون کے بعد برسہا برس تک اس ملک کے برقہ ، فزان اور طرابلس علاقوں میں فیڈرل سسٹم برقرار تھا۔ اس بات کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ بعض خفیہ ہاتھ لیبیا کو ایک بار پھر اسی صورتحال سے دوچار کردینا چاہتے ہیں۔ قبائلی سرداروں کو اشتعال دلانا ایک ایسا آپشن ہے جو لیبیا کے موجودہ سیاسی عمل کے مخالفین اور لیبیا میں خاص مقاصد رکھنے والے اغیار کے پیش نظر ہے۔ دریں اثناء لیبیا میں دیوار کے ساتھ لگ جانے والے قبائل بھی خود مختاری کے اعلان اور فیڈرل نظام کا نظریہ پیش کرنے کے ذریعے اس ملک کی قومی عبوری کونسل سے بعض مراعات حاصل کرنا یا مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں اپنی شرکت کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ لیبیا کے تیل و گیس کے عظیم ذخائر کو للچائي ہوئي نظروں سے دیکھنے والا یورپ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ اس ملک میں بدامنی پھیلنے کی صورت میں بڑی آسانی کے ساتھ مداخلت اور اپنے مفادات حاصل کرسکتا ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک خطرناک سازش کے تحت لیبیا میں علیحدگی کی بات کی گئي ہے اور قبائلی جھڑپوں کا سلسلہ شروع کیا گيا ہے۔ یہ سازش یورپ نے تیار کی ہے جس کے ذریعے وہ اس ملک کے قومی اتحاد اور ارضی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ یہ ایسی سازش ہے جس کا نتیجہ قذافی کے زمانے سے بھی زیادہ بدتر دلدل میں لیبیا کے دھنسنے اور اس ملک کے سیاسی اور اقتصادی میدان میں امریکہ اور یورپ کی مداخلت کا راستہ ہموار ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ ......../169
27 مارچ 2012 - 19:30
News ID: 305008
لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے اس ملک کی تقسیم پرمنتج ہونے والے ہر طرح کے اقدام کے مقابلے پر ایک بار پھر تاکید کرتے ہوۓ اس ملک کے بعض علاقوں میں انجام دیۓ جانے والے حالیہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔